اسی کا بیان اس آیت میں ہے کہ اس منافق نے یہ بہانہ بنایا حالانکہ وہ فتنے میں تو پڑا ہوا ہے، رسول اللہ ﷺ کا ساتھ چھوڑنا جہاد سے منہ موڑنا یہ کیا کم فتنہ ہے؟ یہ منافق بنو سلمہ قبیلے کا رئیس اعظم تھا۔ نبی کریم ﷺ نے جب اس قبیلے کے لوگوں سے دریافت فرمایا کہ ” تمہارا سردار کون ہے“؟ تو انہوں نے کہا ” جد بن قیس جو بڑا ہی شوم اور بخیل ہے۔“ آپ نے فرمایا: ” بخل سے بڑھ کر اور کیا بری بیماری ہے“؟ سنو اب سے تمہارا سردار نوجوان سفید اور خوبصورت بشر بن برابن معرور ہے۔ [طبرانی کبیر:163،164/19:صحیح] جہنم کافروں کو گھیر لینے والی ہے نہ اس سے وہ بچ سکیں نہ بھاگ سکیں نہ نجات پا سکیں۔