Landscape MP4 Vertical MP4

سورت التوبہ — آیت 49 (اردو) — ویڈیو

التوبہ • آیت نمبر 49 (کل 129 آیتیں) • اردو


وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ ائْذَنْ لِي وَلَا تَفْتِنِّي ۚ أَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوا ۗ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ 49
ترجمہ:
اور ان میں کوئی ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ مجھے تو اجازت ہی دیجئے اور آفت میں نہ ڈالئے۔ دیکھو یہ آفت میں پڑگئے ہیں اور دوزخ سب کافروں کو گھیرے ہوئے ہے التوبہ ۹:۴۹
تفسیر:
جد بن قیس جیسے بدتمیزوں کا حشر جد بن قیس سے نبی کریم نے فرمایا: ” اس سال نصرانیوں کے جلا وطن کرنے میں تو ہمارا ساتھ دے گا۔‏“ تو اس نے کہا: ” یا رسول اللہ ! مجھے تو معاف رکھئے میری ساری قوم جانتی ہے کہ میں عورتوں کا بےطرح شیدا ہوں عیسائی عورتوں کو دیکھ کر مجھ سے تو اپنا نفس روکا نہ جائے گا۔‏“ آپ نے اس سے منہ موڑ لیا۔

اسی کا بیان اس آیت میں ہے کہ اس منافق نے یہ بہانہ بنایا حالانکہ وہ فتنے میں تو پڑا ہوا ہے، رسول اللہ کا ساتھ چھوڑنا جہاد سے منہ موڑنا یہ کیا کم فتنہ ہے؟ یہ منافق بنو سلمہ قبیلے کا رئیس اعظم تھا۔ نبی کریم نے جب اس قبیلے کے لوگوں سے دریافت فرمایا کہ ” تمہارا سردار کون ہے“؟ تو انہوں نے کہا ” جد بن قیس جو بڑا ہی شوم اور بخیل ہے۔‏“ آپ نے فرمایا: ” بخل سے بڑھ کر اور کیا بری بیماری ہے“؟ سنو اب سے تمہارا سردار نوجوان سفید اور خوبصورت بشر بن برابن معرور ہے۔ [طبرانی کبیر:163،164/19:صحیح] ‏ جہنم کافروں کو گھیر لینے والی ہے نہ اس سے وہ بچ سکیں نہ بھاگ سکیں نہ نجات پا سکیں۔

X Facebook Minutemailer Stellar WhatsApp Reddit
مکمل سورت کی ویڈیو دیکھیں
پچھلی التوبہ • آیت 48 اگلی التوبہ • آیت 50