منافق کے لئے استغفار کرنے کی ممانعت ہے فرماتا ہے کہ یہ منافق اس قابل نہیں کہ تو اے نبی
ﷺ تو ان کے لیے اللہ سے بخشش طلب کرے۔ ایک بار نہیں اگر تو ستر مرتبہ بھی بخشش ان کے لیے چاہے تو اللہ تعالیٰ انہیں نہیں بخشے گا۔ یہ جو ستر کا ذکر ہے اس سے مراد صرف زیادتی ہے وہ ستر سے کم ہو یا بہت زیادہ ہو۔ بعض نے کہا ہے کہ مراد اس سے ستر کا ہی عدد ہے چنانچہ نبی کریم
ﷺ نے فرمایا کہ ” میں تو ان کے لیے ستر بار سے بھی زیادہ استغفار کروں گا تاکہ اللہ انہیں بخش دے۔“ پس اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں فرما دیا کہ ان کے لیے تیرا استغفار کرنا نہ کرنے کے برابر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17045:ضعیف] عبداللہ بن ابی منافق کا بیٹا نبی کریم
ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتا ہے کہ میرا باپ نزع کی حالت میں ہے میری چاہت ہے کہ آپ
ﷺ اس کے پاس تشریف لے چلیں اس کے جنازے کی نماز بھی پڑھائیں۔ آپ
ﷺ نے پوچھا ” تیرا نام کیا ہے“؟ اس نے کہا: ” حباب“ آپ
ﷺ نے فرمایا: ” تیرا نام عبداللہ ہے حباب تو شیطان کا نام ہے۔“
اب آپ ان کے ساتھ ہو لئے ان کے باپ کو اپنا کرتہ اپنے پسینے والا پہنایا اس کی جنازے کی نماز پڑھائی۔ آپ ﷺ سے کہا بھی گیا کہ آپ ﷺ اس کے جنازے پر نماز پڑھ رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ نے ستر مرتبہ کے استغفار سے ہی نہ بخشنے کو فرمایا ہے میں تو ستر بار پھر ستر بار پھر ستر بار پھر استغفار کروں گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17044:ضعیف]