Landscape MP4 Vertical MP4

سورت النحل — آیت 124 (اردو) — ویڈیو

النحل • آیت نمبر 124 (کل 128 آیتیں) • اردو


إِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ ۚ وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ 124
ترجمہ:
ہفتے کا دن تو ان ہی لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ جنہوں نے اس میں اختلاف کیا۔ اور تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے النحل ۱۶:۱۲۴
تفسیر:
جمعہ کا دن ہر امت کے لیے ہفتے میں ایک دن اللہ تعالیٰ نے ایسا مقرر کیا ہے جس میں وہ جمع ہو کر اللہ کی عبادت کی خوشی منائیں۔ اس امت کے لیے وہ دن جمعہ کا دن ہے، اس لیے کہ وہ چھٹا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کا کمال کیا۔ اور ساری مخلوق پیدا ہو چکی اور اپنے بندوں کو ان کی ضرورت کی اپنی پوری نعمت عطا فرما دی۔

مروی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی زبانی یہی دن بنی اسرائیل کے لیے مقرر فرمایا گیا تھا لیکن وہ اس سے ہٹ کر ہفتے کے دن کو لے بیٹھے، یہ سمجھے کہ جمعہ کو مخلوق پوری ہوگئی، ہفتہ کے دن اللہ نے کوئی چیز پیدا نہیں کی۔ پس تورات جب اتری ان پر وہی ہفتے کا دن مقرر ہوا اور انہیں حکم ملا کہ اسے مضبوطی سے تھامے رہیں، ہاں یہ ضرور فرما دیا گیا تھا کہ نبی کریم محمد جب بھی آئیں تو وہ سب کے سب کو چھوڑ کر صرف آپ ہی کی اتباع کریں۔ اس بات پر ان سے وعدہ بھی لے لیا تھا۔ پس ہفتے کا دن انہوں نے خود ہی اپنے لیے چھانٹا تھا۔ اور آپ ہی جمعہ کو چھوڑا تھا۔

حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے زمانہ تک یہ اسی پر رہے۔ کہا جاتا ہے کہ پھر آپ علیہ السلام نے انہیں اتوار کے دن کی طرف دعوت دی۔ ایک قول ہے کہ آپ علیہ السلام نے توراۃ کی شریعت چھوڑی نہ تھی سوائے بعض منسوخ احکام کے اور ہفتے کے دن کی محافظت آپ علیہ السلام نے بھی برابر جاری رکھی۔ جب آپ علیہ السلام آسمان پر چڑھا لیے گئے تو آپ علیہ السلام کے بعد قسطنطین بادشاہ کے زمانے میں صرف یہودیوں کی ضد میں آکر صخرہ سے مشرق جانب کو اپنا قبلہ انہوں نے مقرر کرلیا اور ہفتے کی بجائے اتوار کا دن مقرر کر لیا۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم فرماتے ہیں ہم سب سے آخر والے ہیں اور قیامت کے دن سب سے آگے والے ہیں۔ ہاں انہیں کتاب اللہ ہم سے پہلے دی گئی۔ یہ دن بھی اللہ نے ان پر فرض کیا لیکن ان کے اختلاف نے انہیں کھودیا اور اللہ رب العزت نے ہمیں اس کی ہدایت دی پس یہ سب لوگ ہمارے پیچھے پیچھے ہیں۔ یہودی ایک دن پیچھے نصارنی دو دن ۔ [صحیح بخاری:876] ‏ آپ فرماتے ہیں ہم سے پہلے کی امتوں کو اللہ نے اس دن سے محروم کر دیا یہود نے ہفتے کا دن رکھا نصاریٰ نے اتوار کا اور جمعہ ہمارا ہوا۔ پس جس طرح دنوں کے اس اعتبار سے وہ ہمارے پیچھے ہیں۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی ہمارے پیچھے ہی رہیں گے۔ ہم دنیا کے اعتبار سے پچھلے ہیں اور قیامت کے اعتبار سے پہلے ہیں یعنی تمام مخلوق میں سب سے پہلے فیصلے ہمارے ہوں گے ۔ [صحیح مسلم:856] ‏

X Facebook Minutemailer Stellar WhatsApp Reddit
مکمل سورت کی ویڈیو دیکھیں
پچھلی النحل • آیت 123 اگلی النحل • آیت 125