اسی طرح موسیٰ علیہ السلام کو بھی نرمی کا حکم ہوا تھا۔ دونوں بھائیوں کو یہ کہہ کر فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا کہ فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى طٰہٰ ۲۰:۴۴ ⧉ ” اسے نرم بات کہنا تاکہ عبرت حاصل کرے اور ہوشیار ہو جائے “۔ گمراہ اور ہدایت یاب سب اللہ کے علم میں ہیں۔ شقی و سعید سب اس پر واضح ہیں۔ وہاں لکھے جا چکے ہیں اور تمام کاموں کے انجام سے فراغت ہو چکی ہے۔ ” آپ ﷺ تو اللہ کی راہ کی دعوت دیتے رہیں لیکن نہ ماننے والوں کے پیچھے اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈالئے۔ آپ ہدایت کے ذمے دار نہیں آپ صرف آگاہ کرنے والے ہیں، آپ پر پیغام کا پہنچا دینا فرض ہے۔ حساب ہم آپ لیں گے۔ إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ القصص ۲۸:۵۶ ⧉ ہدایت آپ کے بس کی چیز نہیں کہ جسے محبوب سمجھیں، ہدایت عطا کر دیں لوگوں کی ہدایت کے ذمے دار آپ نہیں یہ اللہ کے قبضے اور اس کے ہاتھ کی چیز ہے “۔