وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً يَّاْتِيْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ
النحل ۱۶: ۱۱۲⧉ ۱۱۳⧉ ، یہاں فرماتا ہے کہ ” ان کی اجڑی ہوئی بستیاں اب تک اجڑی پڑی ہیں۔ کچھ یونہی سی آبادی اگرچہ ہو گئی ہو لیکن دیکھو ان کے کھنڈرات سے آج تک وحشت برس رہی ہے ہم ہی ان کے مالک رہ گئے ہیں “۔ کعب رحمہ اللہ [تابعی] کا قول ہے کہ ” الو سے سلیمان علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ ” تو کھیتی اناج کیوں نہیں کھاتا؟“ اس نے کہا کہ اس لیے کہ اسی کے باعث آدم علیہ السلام جنت سے نکالے گئے پوچھا ” پانی کیوں نہیں پیتا؟“ کہا اس لیے کہ قوم نوح علیہ السلام اسی میں ڈبودی گئی۔ پوچھا ” ویرانے میں کیوں رہتا ہے؟“ کہا اس لیے کہ وہ اللہ کی میراث ہے۔ پھر کعب رحمہ اللہ نے آیت وَكُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِيْنَ القصص ۲۸:۵۸ ⧉ پڑھا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے عدل وانصاف کو بیان فرما رہا ہے کہ ” وہ کسی کے ظلم سے ہلاک نہیں کرتا پہلے ان پر اپنی حجت ختم کرتا ہے اور ان کا عذر دور کرتا ہے۔ رسولوں کو بھیج کر اپنا کلام ان تک پہنچاتا ہے “۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی نبوت عام تھی آپ ام القریٰ میں مبعوث ہوئے تھے۔ اور تمام عرب وعجم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے جیسے فرمان ہے آیت لِّتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَىٰ وَمَنْ حَوْلَهَا الشوریٰ ۴۲:۷ ⧉ ” تاکہ تو مکہ والوں کو اور دوسرے شہر والوں کو ڈرادے “ اور فرمایا آیت قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّـهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الاعراف ۷:۱۵۸ ⧉ ” کہہ دے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں “اور آیت میں ہے لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ الانعام ۶:۱۹ ⧉ ” تاکہ اس قرآن سے میں تمہیں بھی ڈرادوں اور ہر اس شخص کو جس تک یہ قرآن پہنچے “۔
اور آیت میں ہے وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ ہود ۱۱:۱۷ ⧉ ” اس قرآن کے ساتھ دنیا والوں میں سے جو بھی کفر کریں اس کے وعدے کی جگہ جہنم ہے “۔ اور جگہ اللہ کا فرمان ہے آیت وَاِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا الاسراء ۱۷:۵۸ ⧉ ، یعنی ” تمام بستیوں کو ہم قیامت سے پہلے ہلاک کرنے والے ہیں یا سخت عذاب کرنے والے ہیں “۔ پس خبر دی کہ قیامت سے پہلے وہ سب بستیوں کو برباد کر دے گا۔ اور آیت میں ہے وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا الاسراء ۱۷:۱۵ ⧉ کہ ” ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے “۔ پس نبی کریم ﷺ کی بعثت کو عام کر دیا اور تمام جہاں کے لیے کر دیا اور مکہ میں جو کہ تمام دنیا کا مرکز ہے آپ ﷺ کو مبعوث فرما کر ساری دنیا پر اپنی حجت ختم کر دی۔ بخاری و مسلم میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد مروی ہے کہ میں تمام سیاہ سفید کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ [صحیح مسلم:521] اسی لیے نبوت ورسالت کو آپ ﷺ پر ختم کر دیا آپ ﷺ کے بعد سے قیامت تک نہ کوئی نبی آئے گا نہ رسول۔ کہا گیا کہ مراد اُمُّ الْقُرَىٰ سے اصل اور بڑا قریہ ہے۔