رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دنیا آخرت کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی سمندر میں انگلی ڈبو کر نکال لے پھر دیکھ لے کہ اس کی انگلی پر جو پانی چڑھا ہوا ہے وہ سمندر کے مقابلہ میں کتنا کچھ ہے ۔ [صحیح مسلم:2858] افسوس کہ اس پر بھی اکثر لوگ اپنی کم علمی اور بےعلمی کے باعث دنیا کے متوالے ہو رہے ہیں۔
خیال کر لو ایک تو وہ جو اللہ پر اللہ کے نبی ﷺ پر ایمان و یقین رکھتا ہو اور ایک وہ جو ایمان نہ لایا ہو نتیجے کے اعتبار سے برابر ہو سکتے ہیں؟ ایمان والوں کے ساتھ تو اللہ کا جنت کا اور اپنی بےشمار ان مٹ غیر فانی نعمتوں کا وعدہ ہے اور کافر کے ساتھ وہاں کے عذابوں کا ڈراوا ہے گو دنیا میں کچھ روز عیش ہی منالے۔مروی ہے کہ یہ آیت نبی کریم ﷺ اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ایک قول یہ بھی ہے کہ سیدنا حمزہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہم اور ابوجہل کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے جیسے فرمان اللہ ہے کہ جنتی مومن اپنے جنت کے درجوں سے جھانک کر جہنمی کافر کو جہنم کے جیل خانہ میں دیکھ کر کہے گا وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّيْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِيْنَ الصافات ۳۷:۵۷ ⧉ ” اگر مجھ پر میرے رب کا انعام نہ ہوتا تو میں بھی ان عذابوں میں پھنس جاتا “۔ اور آیت میں ہے وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ الصافات ۳۷:۱۵۸ ⧉ ” جنات کو یقین ہے کہ وہ حاضر کیے جانے والوں میں سے ہیں “۔