اب رہی یہ بات کہ توبتہ النصوح میں یہ شرط بھی ہے کہ توبہ کرنے والا پھر مرتے دم تک یہ گناہ نہ کرے۔ جیسے کہ احادیث و آثار ابھی بیان ہوئے جن میں ہے کہ پھر کبھی نہ کرے، یا صرف اس کا عزم راسخ کافی ہے کہ اسے اب کبھی نہ کروں گا گو پھر بہ متضائے بشریت بھولے چوکے ہو جائے، جیسے کہ ابھی حدیث گزری کہ توبہ اپنے سے پہلے گناہوں کو بالکل مٹا دیتی ہے، تو تنہا توبہ کے ساتھ ہی گناہ معاف ہو جاتے ہیں یا پھر مرتے دم تک اس کام کا نہ ہونا گناہ کی معافی کی شرط کے طور پر ہے؟
پس پہلی بات کی دلیل تو یہ صحیح حدیث ہے کہ جو شخص اسلام میں نیکیاں کرے وہ اپنی جاہلیت کی برائیوں پر پکڑا نہ جائے گا اور جو اسلام لا کر بھی برائیوں میں مبتلا رہے وہ اسلام اور جاہلیت کی دونوں برائیوں میں پکڑا جائے گا ۔ [صحیح بخاری:6921] پس اسلام جو کہ گناہوں کو دور کرنے میں توبہ سے بڑھ کر ہے، جب اس کے بعد بھی اپنی بدکرداریوں کی وجہ سے پہلی برائیوں میں بھی پکڑ ہوئی، تو توبہ کے بعد بطور اولیٰ ہونی چاہیئے۔ وَاللهُ اَعْلَمُ لفظ عَسٰی گو تمنا، امید اور امکان کے معنی دیتا ہے لیکن کلام اللہ میں اس کے معنی تحقیق کے ہوتے ہیں پس فرمان ہے کہ خالص توبہ کرنے والے قطعاً اپنے گناہوں کو معاف کروا لیں گے اور سرسبز و شاداب جنتوں میں آئیں گے۔پھر ارشاد ہے ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ اور ان کے ایماندار ساتھیوں کو ہرگز شرمندہ نہ کرے گا، انہیں اللہ کی طرف سے نور عطا ہو گا جو ان کے آگے آگے اور دائیں طرف ہو گا، اور سب اندھیروں میں ہوں گے اور یہ روشنی میں ہوں گے “، جیسے کہ پہلے سورۃ الحدید⧉ کی تفسیر میں گزر چکا، جب یہ دیکھیں گے کہ منافقوں کو جو روشنی ملی تھی عین ضرورت کے وقت وہ ان سے چھین لی گئی اور وہ اندھیروں میں بھٹکتے رہ گئے تو دعا کریں گے کہ اے اللہ ہمارے ساتھ ایسا نہ ہو ہماری روشنی تو آخر وقت تک ہمارے ساتھ ہی رہے ہمارا نور ایمان بجھنے نہ پائے۔
بنو کنانہ کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں فتح مکہ والے دن رسول اللہ ﷺ کے پیچھے میں نے نماز پڑھی تو میں نے آپ ﷺ کی اس دعا کو سنا ” الَّلهُمَّ لاَ تُخْزِنِيْ يَوْمَ الْقِيَامَة میرے اللہ! مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرنا“ ۔ [مسند احمد:234/4:صحیح] ایک حدیث میں ہے نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں: ” قیامت کے دن سب سے پہلے سجدے کی اجازت مجھے دی جائے گی اور اسی طرح سب سے پہلے سجدے سے سر اٹھانے کی اجازت بھی مجھ ہی کو مرحمت ہو گی میں اپنے سامنے اور دائیں بائیں نظریں ڈال کر اپنی امت کو پہچان لوں گا“ ایک صحابی نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ انہیں کیسے پہچانیں گے؟ وہاں تو بہت سی امتیں مخلوط ہوں گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ” میری امت کے لوگوں کی ایک نشانی تو یہ ہے کہ ان کے اعضاء وضو منور ہوں گے، چمک رہے ہوں گے کسی اور امت میں یہ بات نہ ہو گی دوسری پہچان یہ ہے کہ ان کے نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے، تیسری نشانی یہ ہو گی کہ سجدے کے نشان ان کی پیشانیوں پر ہوں گے جن سے میں پہچان لوں گا چوتھی علامت یہ ہے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے ہو گا“ ۔ [مسند احمد:199/5:ضعیف]