یہ یاد رہے کہ خیانت کرنے سے مراد بدکاری نہیں، انبیاء علیہم السلام کی حرمت و عصمت اس سے بہت اعلیٰ اور بالا ہے کہ ان کی گھر والیاں فاحشہ ہوں، ہم اس کا پورا بیان سورۃ النور⧉ کی تفسیر میں کر چکے ہیں، بلکہ یہاں مراد خیانت فی الدین ہے، یعنی دین میں اپنے خاوندوں کی خیانت کی ان کا ساتھ نہ دیا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” ان کی خیانت زنا کاری نہ تھی بلکہ یہ تھی کہ نوح علیہ السلام کی بیوی تو لوگوں سے کہا کرتی تھی کہ یہ مجنوں ہیں اور لوط علیہ السلام کی بیوی جو مہمان لوط کے ہاں آتے تو کافروں کو خبر کر دیتی تھی۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:169/28:ضعیف] یہ دونوں بد دین تھیں نوح علیہ السلام کی راز داری اور پوشیدہ طور پر ایمان لانے والوں کے نام کافروں پر ظاہر کر دیا کرتی تھی، اسی طرح لوط علیہ السلام کی بیوی بھی اپنے خاوند اللہ کے رسول علیہ السلام کی مخالف تھی اور جو لوگ آپ کے ہاں مہمان بن کر ٹھہرتے یہ جا کر اپنی کافر قوم کو خبر کر دیتی جنہیں بدعمل کی عادت تھی، بلکہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ” کسی پیغمبر کی کسی عورت نے کبھی بدکاری نہیں کی۔“اسی طرح عکرمہ، سعید بن جبیر، ضحاک رحمہم اللہ وغیرہ سے بھی مروی ہے، اس سے استدلال کر کے بعض علماء نے کہا ہے کہ وہ جو عام لوگوں میں مشہور ہے کہ حدیث میں ہے ” جو شخص کسی ایسے کے ساتھ کھائے جو بخشا ہوا ہو اسے بھی بخش دیا جاتا ہے“، یہ حدیث بالکل ضعیف ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ حدیث محض بے اصل ہے۔ ہاں ایک بزرگ سے مروی ہے کہ انہوں نے خواب میں نبی کریم ﷺ کی زیارت کی اور پوچھا کہ کیا آپ نے یہ حدیث ارشاد فرمائی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ” نہیں، لیکن اب میں کہتا ہوں۔“ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:315]